ابنا: خبروں کے مطابق وزيراعظم ينگ لک شينا واترا کے ہزاروں مخالفين دارالحکومت بينکاک ميں مظاہرے کئے اور ان کے استعفے کا مطالبہ کيا۔ يہ مظاہرے ايسے وقت ميں کئے گئے ہيں جب ملک کي پارليمنٹ نے وزيراعظم کو ايک بار پھر اعتماد کا ووٹ دے ديا ہے۔ سن دوہزار دس کے بعد يہ تھائي لينڈ ميں ہونے والے سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہرے تصور کئے جارہے ہيں۔ سن دوہزار کے پرتشدد مظاہروں ميں نوے افراد ہلاک اور دو ہزار سے زيادہ زخمي ہوگئے تھے۔تھائي لينڈ ميں مظاہروں کا سلسلہ گزشتہ مہينے اس وقت شروع ہوا، جب حکومت نے ملک ميں عام معافي کا اعلان کيا جس کے تحت سابق وزيراعظم تھاکسين شينا واترا کي وطن واپسي کا راستہ ہموار ہوگيا ہے۔ تھاکسين شينا واترا موجودہ وزيراعظم ينگ لک شينا واترا کے بھائي ہيں جو سن دوہزار آٹھ ميں بدعنوانيوں کے الزام ميں مجرم قرار پائے تھے اور انہيں سزا سنائي دي گئي تھي، تاہم وہ اپني حکومت کے خاتمے کے بعد بيرون ملک چلے گئے تھے۔......./169
27 نومبر 2013 - 20:30
News ID: 484271
تھائي لينڈ ميں حکومت مخالفين نے مسلسل پانچويں روز بھي مظاہرے کئے ہيں۔